حدیث نمبر: 4869
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ : سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ ، أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ ، أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں ( یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے ) سوائے تین مجلسوں کے ، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے ، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: ان تینوں صورتوں میں سننے والے کے لئے اس کا چھپانا جائز نہیں، بلکہ اس کا افشاء برائی کے دفعیہ کے لیے ضروری ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4869
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن أخي جابر : مجهول،لم أجد له ترجمة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/342) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں (یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4869]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
مگر حکمت و اخلاق اور دوسرے دلائل کو تقاضا یہی ہے کہ مجلسِ مشاورت میں ہونے والی گفتگو راز اور امانت ہوتی ہے۔
اس کی حفاظت کرنا اصحابِ مجلس پر لازم ہے الا یہ کہ کسی کی جان و مال اور عزت لوٹنے کی بات ہو تو ایسے رازوں کو راز رکھنا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4869 سے ماخوذ ہے۔