حدیث نمبر: 4857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَلِمَاتٌ لَا يَتَكَلَّمُ بِهِنَّ أَحَدٌ فِي مَجْلِسِهِ عِنْدَ قِيَامِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كُفِّرَ بِهِنَّ عَنْهُ ، وَلَا يَقُولُهُنَّ فِي مَجْلِسِ خَيْرٍ وَمَجْلِسِ ذِكْرٍ إِلَّا خُتِمَ لَهُ بِهِنَّ عَلَيْهِ كَمَا يُخْتَمُ بِالْخَاتَمِ عَلَى الصَّحِيفَةِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے ( ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے ) کفارہ بن جاتے ہیں ، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ” اے اللہ ! تو پاک ہے ، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے ، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله ثلاث مرات , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, سعيد بن أبي ھلال لم يثبت أنه اختلط ونقل الساجي عن أحمد لا يصح لإنقطاعه
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12981)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 39 (3429)، مسند احمد (2/494) (صحیح) دون قولہ : '' ثلاث مرات'' »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مجلس کے کفارہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے (ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» اے اللہ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4857]
فوائد ومسائل:
اس روایت میں مذکورہ دُعا کو تین بار پڑھنے کی شرط صحیح نہیں۔
(علامہ البانی ؒ) بلکہ ایک ہی بار پڑھنے سے مذکورہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4857 سے ماخوذ ہے۔