سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَلاَ يَذْكُرُ اللَّهَ باب: اللہ (کا ذکر) کو یاد کئے بغیر مجلس سے اٹھ کر جانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4856
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے ، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اللہ (کا ذکر) کو یاد کئے بغیر مجلس سے اٹھ کر جانے کی کراہت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4856]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4856]
فوائد ومسائل:
مومنین مخلصین کا خاص وصف یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) جو لوگ اُٹھتے بیٹھتے اور اپنے پہلوؤں کے بل لیٹے ہو ئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں زمیں کی خلقت میں تفکر و تدبر کرتے رہتے ہیں (آلِ عمران: 191) اس کے معنی یہ بھی نہیں کہ بندہ اپنے لازمی واجبات سے پہلو تہی کر کے بس تسبیح لیئے بیٹھا رہے، بلکہ سنتِ نبوی کے مطابق مو قع بموقع مسنون دُعائیں پڑھتے رہنا ہی ذکرِ کثیر ہے۔
مومنین مخلصین کا خاص وصف یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) جو لوگ اُٹھتے بیٹھتے اور اپنے پہلوؤں کے بل لیٹے ہو ئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں زمیں کی خلقت میں تفکر و تدبر کرتے رہتے ہیں (آلِ عمران: 191) اس کے معنی یہ بھی نہیں کہ بندہ اپنے لازمی واجبات سے پہلو تہی کر کے بس تسبیح لیئے بیٹھا رہے، بلکہ سنتِ نبوی کے مطابق مو قع بموقع مسنون دُعائیں پڑھتے رہنا ہی ذکرِ کثیر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4856 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5059 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی، اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5059]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی، اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5059]
فوائد ومسائل:
آخرت کی نعمتیں اور وہاں کے درجات بے انتہا کثیر اور عظیم ہیں۔
بندے کو اس وقت حسرت ہوگی کہ کاش میں کوئی موقع ضائع نہ کرتا اور بہت زیادہ ذکر اور عبادت میں مشغول رہتا۔
اس طرح وہاں عذاب اور پکڑ بھی ناقابل تصور حد تک سخت ہے۔
تو انسان کو حسرت ہوگی کہ کاش میں نےعبادت کرکے اپنے آپ کو اس سے بچا لیا ہوتا۔
اس وجہ سے قیامت کے ناموں میں سے ایک نام یوم الحسرۃ بھی ہے۔
قرآن مقدس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ (مریم: 40) اے پیغمبر! ان لوگوں کو یوم حسرت (روز قیامت)سے ڈرایئں۔
آخرت کی نعمتیں اور وہاں کے درجات بے انتہا کثیر اور عظیم ہیں۔
بندے کو اس وقت حسرت ہوگی کہ کاش میں کوئی موقع ضائع نہ کرتا اور بہت زیادہ ذکر اور عبادت میں مشغول رہتا۔
اس طرح وہاں عذاب اور پکڑ بھی ناقابل تصور حد تک سخت ہے۔
تو انسان کو حسرت ہوگی کہ کاش میں نےعبادت کرکے اپنے آپ کو اس سے بچا لیا ہوتا۔
اس وجہ سے قیامت کے ناموں میں سے ایک نام یوم الحسرۃ بھی ہے۔
قرآن مقدس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ (مریم: 40) اے پیغمبر! ان لوگوں کو یوم حسرت (روز قیامت)سے ڈرایئں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5059 سے ماخوذ ہے۔