حدیث نمبر: 4852
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَأَرْبَعَةٌ ، قَالَ : لَا يَضُرُّكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا ، ابوصالح کہتے ہیں : میں نے ابن عمر سے کہا : اگر چار آدمی ہوں تو ؟ وہ بولے ( تو کوئی حرج نہیں ) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1169)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6714)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/18، 43، 141) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کانا پھوسی کرنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں: میں نے ابن عمر سے کہا: اگر چار آدمی ہوں تو؟ وہ بولے (تو کوئی حرج نہیں) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4852]
فوائد ومسائل:
چار آدمیوں میں دو دو آدمی آپس میں کوئی خاص بات کریں تو یہ کیفیت گوارا ہو سکتی ہے۔
مگر تین میں دو کا تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی کرنا یا کسی ایسی زبان میں بات کرنا جو اس کی سمجھ میں نہ آتی ہو، اس کے لیے ازحد کلفت کا باعث ہوگی اور یہ صورت اس تیسرے کی عزت و کرامت کے خلاف بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4852 سے ماخوذ ہے۔