حدیث نمبر: 4850
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسْنَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو ( آلتی پالتی ) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4850
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (670), مشكوة المصابيح (4715)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 52 (670)، (تحفة الأشراف: 2164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/100، 101، 107) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1358 | صحيح مسلم: 670 | سنن ترمذي: 585 | معجم صغير للطبراني: 335

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چارزانو (آلتی پالتی) ہو کر بیٹھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو (آلتی پالتی) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4850]
فوائد ومسائل:
1) عام حالت میں آلتی پالتی کی حالت میں بیٹھنا جائز ہے، حتی کہ مریض اس حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
مگر کھانے کے لیئے بعض علما ء نے اس طرح بیٹھنے کو مکروہ جانا ہےاور اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنا ٹیک لگانے کے ضمن میں آ سکتا ہے اور ٹیک لگا کر کھانا ممنوع ہے۔

2) مستحب ہے کی انسان نمازِ فجر کے بعد طلو ع آفتاب تک مسجد میں بیٹھے اور ذکر و تسبیح اور قراءت و قرآن وغیرہ میں مشغول رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4850 سے ماخوذ ہے۔