حدیث نمبر: 4848
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : " مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي ، فَقَالَ : أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ چھوڑا تھا اور اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب نازل ہوا ؟ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4848
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج عنعن ولم أجد تصريح سماعه في السند الموصول !, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4841)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ناپسندیدہ بیٹھک کا بیان۔`
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ چھوڑا تھا اور اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب نازل ہوا؟۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4848]
فوائد ومسائل:
کمر کے پیچھے زمیں پر ہاتھ کی ٹیک لگا کر بیٹھنا مکروہ ہے۔
اس روایت کو بعض نے صحیح کہا ہے دیکھئے: (حجاب المرأة لألباني: 100/2)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4848 سے ماخوذ ہے۔