سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي الرَّجُلِ يَجْلِسُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمَا باب: ایک آدمی بلا اجازت دو آدمی کے درمیان بیٹھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4845
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایک آدمی بلا اجازت دو آدمی کے درمیان بیٹھے تو کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4845]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4845]
فوائد ومسائل:
دو مسلمانوں کے درمیان جو پہلے سے اکٹھے بیٹھے ہوئے ہوں، زور سے گھس بیٹھنا اور ان کے درمیان تفریق کر دینا جائز نہیں، دوبھائیوں کے درمیان پھوٹ ڈال دینا تو اور بھی بڑا جرم ہے۔
دو مسلمانوں کے درمیان جو پہلے سے اکٹھے بیٹھے ہوئے ہوں، زور سے گھس بیٹھنا اور ان کے درمیان تفریق کر دینا جائز نہیں، دوبھائیوں کے درمیان پھوٹ ڈال دینا تو اور بھی بڑا جرم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4845 سے ماخوذ ہے۔