حدیث نمبر: 4826
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ جَلَسَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی جو حلقہ کے بیچ میں جا کر بیٹھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4826
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2753), أبو مجلز لم يدرك حذيفة رضي اللّٰه عنه (انظر جامع التحصيل ص 296), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 12 (2753)، (تحفة الأشراف: 3389)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 398، 401) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2753

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2753 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مجلس کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان۔`
ابومجلز سے روایت ہے کہ ایک آدمی حلقہ کے بیچ میں بیٹھ گیا، تو حذیفہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ شخص ملعون ہے جو بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلقہ (دائرہ) کے بیچ میں جا کر بیٹھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2753]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے مراد وہ آدمی ہے جو مجلس کے کنارے نہ بیٹھ کر لوگوں کی گردنوں کو پھاندتا ہوا بیچ حلقہ میں جا کر بیٹھے، اور لوگوں کے درمیان حائل ہو جائے، البتہ ایسا آدمی جس کا انتظار اسی بنا پر ہو کہ وہ مجلس کے درمیان آ کر بیٹھے تو وہ اس لعنت میں داخل نہیں ہے۔

نوٹ:
(ابومجلز اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2753 سے ماخوذ ہے۔