سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي التَّحَلُّقِ باب: مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ ، وَهَنَّادٌ ، أَنَّ شَرِيكًا أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4825]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4825]
فوائد ومسائل:
1) یہ بات انتہائی معیوب ہوتی ہے کہ انسان دیر سے آئے اور پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے جگہ لینے کی کوشش کرے۔
ہاں اگر پہلے آنے والوں نے مجلس کا ادب ملحوظ نہ رکھا ہو کہ آگے جگہ خالی چھوڑ دی ہو اور راستے میں بیٹھ گئے ہوں تو گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔
کیونکہ انھوں نے از خود اپنا وقار ضائع کیا ہو تا ہے۔
2) یہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سندََا ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق و تخریج میں اس بات کی وضاحت کی ہے علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
1) یہ بات انتہائی معیوب ہوتی ہے کہ انسان دیر سے آئے اور پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے جگہ لینے کی کوشش کرے۔
ہاں اگر پہلے آنے والوں نے مجلس کا ادب ملحوظ نہ رکھا ہو کہ آگے جگہ خالی چھوڑ دی ہو اور راستے میں بیٹھ گئے ہوں تو گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔
کیونکہ انھوں نے از خود اپنا وقار ضائع کیا ہو تا ہے۔
2) یہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سندََا ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق و تخریج میں اس بات کی وضاحت کی ہے علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4825 سے ماخوذ ہے۔