حدیث نمبر: 4825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ ، وَهَنَّادٌ ، أَنَّ شَرِيكًا أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف ؎, ترمذي (2725), شريك مدلس وعنعن, ولم أجد من تابعه, وللحديث شاھد ضعيف في المعجم الكبير للطبراني (7197) وحديث البخاري (66) ومسلم (2176) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الاستئذان 29 (2725)، (تحفة الأشراف: 2173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/91، 107) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4825]
فوائد ومسائل:
1) یہ بات انتہائی معیوب ہوتی ہے کہ انسان دیر سے آئے اور پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے جگہ لینے کی کوشش کرے۔
ہاں اگر پہلے آنے والوں نے مجلس کا ادب ملحوظ نہ رکھا ہو کہ آگے جگہ خالی چھوڑ دی ہو اور راستے میں بیٹھ گئے ہوں تو گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔
کیونکہ انھوں نے از خود اپنا وقار ضائع کیا ہو تا ہے۔

2) یہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سندََا ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر یہ روایت صحیح ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق و تخریج میں اس بات کی وضاحت کی ہے علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4825 سے ماخوذ ہے۔