حدیث نمبر: 4824
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا ، قَالَ : كَأَنَّهُ يُحِبُّ الْجَمَاعَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اعمش سے بھی یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں ہے ” گویا کہ آپ اجتماعیت کو پسند فرماتے تھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (661) ورواه مسلم (430)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2129) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بیان۔`
اعمش سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے گویا کہ آپ اجتماعیت کو پسند فرماتے تھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4824]
فوائد ومسائل:
اگر اہلِ اجتماع کا موضوع ایک ہو تو افضل اور مستحب یہی ہے کہ ایک حلقے میں بیٹھیں۔
لیکن اگر موضوعات مختلف ہوں تو حلقے بنا لینا جائز ہے، جیسے کہ طلباءِ علم اور اصحابِ ذوق میں ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ نماز کی جماعت کے انتظار میں حلقے بنا کر بیٹھنا معیوب ہے، چاہیے کہ ترتیب سے صف میں جگہ بنا کر بیٹھا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4824 سے ماخوذ ہے۔