حدیث نمبر: 4822
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَامَ فِي الشَّمْسِ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوحازم البجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے ، اس کے بعد ( آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا ) تو وہ سائے میں آ گئے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 427، 4/262) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کچھ دھوپ اور کچھ سائے میں بیٹھنا کیسا ہے؟`
ابوحازم البجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے، اس کے بعد (آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا) تو وہ سائے میں آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4822]
فوائد ومسائل:
اطباء بھی یہی کہتے ہیں کہ انسان ی سارا دھوپ میں ہو یا سارا ہی سائے میں ہو۔
آدھا دھوپ میں ہونا اور آدھا سائے میں ہونا طبی طور پر نقصان دہ ہے۔
خاص طور پر شدید گرمی والے علاقوں میں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4822 سے ماخوذ ہے۔