حدیث نمبر: 4820
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا " , قال أَبُو دَاوُد : هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” مجالس میں بہتر وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4723)
تخریج حدیث « تفرد بہ، أبودواد، (تحفة الأشراف: 4130)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/18، 69) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مجلس کی کشادگی کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مجالس میں بہتر وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4820]
فوائد ومسائل:
مجلس میں اگرافراد زیادہ ہوں تو حسن ادب اور وقار کا تقاضا ہے کہ حلقہ وسیع کر لیا جائے۔
اور اس قسم کے اعمال میں اتباع ِ فرمان ِ رسول ﷺ کی نیت شامل ہو تو ثواب زیادہ ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4820 سے ماخوذ ہے۔