سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔`
عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 482]
عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 482]
482۔ اردو حاشیہ:
تھوک، بلغم اور ناک آنے سے نماز باطل نہیں ہوتی اور کچی زمین میں آدمی اپنے بائیں پاؤں سے مسل دے۔
تھوک، بلغم اور ناک آنے سے نماز باطل نہیں ہوتی اور کچی زمین میں آدمی اپنے بائیں پاؤں سے مسل دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 482 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 554 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو علاء یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز پڑھی، آپ ﷺ نے تھوکا اور اسے اپنے بائیں جوتے سے مسل ڈالا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1235]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں تھوک وغیرہ کے دفن کرنے کا معنی ہے اس کو اپنے بائیں جوتے سے مسل دینا اس طرح اس کا ازالہ ہو جائے گا یہ معنی نہیں ہے کہ زمین کو کھودا جائے اور اس میں دفن کیا جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 554 سے ماخوذ ہے۔