سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ باب: راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بِنِ الطَّبَّاعِ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، قَالَ ابْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَالَ لَهَا : يَا أُمَّ فُلَانٍ ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ ، حَتَّى أَجْلِسَ إِلَيْكِ ، قَالَ : فَجَلَسَتْ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا " ، لَمْ يَذْكُرُ ابْنُ عِيسَى : حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا . وقَالَ كَثِيرٌ :عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور بولی : اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے ، آپ نے اس سے فرمایا : ” اے فلاں کی ماں ! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں “ چنانچہ وہ بیٹھ گئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آ کر ملے ، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2326 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت کی عقل میں کچھ فتورتھا، وہ کہنے لگی، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے آپ سے کام ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اے ام فلاں، دیکھ تو کس گلی میں کھڑی ہو کر بات کرنا چاہتی ہے، تاکہ میں تیری ضرورت پوری کر دوں۔‘‘ پھر آپ نے اس کے ساتھ کسی راستہ میں کھڑے ہو کر علیحدگی میں گفتگو کی، حتیٰ کہ اس نے اپنی ضرورت پوری کر لی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6044]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: لوگ کم عقل کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، لیکن آپ نے راستہ میں الگ تھلگ ہو کر، ایک کم عقل عورت کی خواہش کے مطابق اس کی بات سنی اور اس کی بات پوری ہونے تک اس کے پاس کھڑے رہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2326 سے ماخوذ ہے۔