سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ باب: نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، أخبرنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " , قال أَبُو دَاوُد : رَوَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ , عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ شُرَحْبِيلُ ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ .
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی ( دینے کے لیے کچھ ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے ، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے ، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا ، اور جس نے چھپایا ( احسان کو ) تو اس نے اس کی ناشکری کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے ، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں ، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے ، اس لیے ان کا نام نہیں لیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4813]
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4814]
مناسب مقام اور مناسب انداز سے منعم اور محسن کے احسان کا ذکرِ خیر کرنا حق ہے اور قدر دانی میں شمار ہے۔
اس سے اُلفت بڑھتی ہے اور اس کے بر خلاف میں کبیدگی آتی ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں: (الصحیحة: حدیث: 618)