حدیث نمبر: 4813
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، أخبرنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " , قال أَبُو دَاوُد : رَوَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ , عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ شُرَحْبِيلُ ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی ( دینے کے لیے کچھ ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے ، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے ، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا ، اور جس نے چھپایا ( احسان کو ) تو اس نے اس کی ناشکری کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے ، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں ، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے ، اس لیے ان کا نام نہیں لیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شرحبيل بن سعد الأنصاري،شيخ عمارة : ’’ وثقه ابن حبان وضعفه جمهور الأئمة ‘‘ (مجمع الزوائد للهيثمي 115/4) ضعيف (تقدم : 2866), وللحديث لون آخر عند الترمذي (2034) وسنده ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2277) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2034 | سنن ابي داود: 4814

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4813]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4813 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4814 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4814]
فوائد ومسائل:
مناسب مقام اور مناسب انداز سے منعم اور محسن کے احسان کا ذکرِ خیر کرنا حق ہے اور قدر دانی میں شمار ہے۔
اس سے اُلفت بڑھتی ہے اور اس کے بر خلاف میں کبیدگی آتی ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں: (الصحیحة: حدیث: 618)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4814 سے ماخوذ ہے۔