حدیث نمبر: 4811
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا “ ۔

وضاحت:
۱؎: جس کی عادت و طبیعت میں بندوں کی ناشکری ہو وہ اللہ کے احسانات کی بھی ناشکری کرتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسے بندوں کا شکر قبول نہیں فرماتا جو لوگوں کے احسانات کا شکریہ ادا نہ کرتے ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (1954 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البر والصلة 35 (1954)، (تحفة الأشراف: 14368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/295، 461، 303، 5/211، 212) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1954

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا (بھی) شکر ادا نہیں کرتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4811]
فوائد ومسائل:
لوگوں کے اچھے معاملے اور احسان پر شکریے کا اظہار انسا ن کے صاحبِ خلق ہونے کی دلیل ہو تا ہے۔
جبکہ اللہ عزوجل کا شکر عبادت اور عبودیت کا حصہ ہے۔
لوگ جو آپ کے ساتھ احسان کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ عزوجل کے تصرف سے ہی کرتے ہیں، لہذا حقیقی شکر گزاری تو رب تعالی ہی کا حق ہے۔
تاہم بالطبع لوگوں سے احسان مندی کا اظہار بھی لازمی طور پر مشروع اور مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4811 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1954 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محسن کا شکر یہ ادا کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1954]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جو اللہ کے بندوں کا ان کے توسط سے ملنے والی کسی نعمت پرشکر گزار نہ ہو حالانکہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو ایسے شخص سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ کا شکر گزار بندہ ہوگا؟ یا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کا شکر اس احسان پر جو اللہ نے اس پر کیا ہے نہیں قبول کرے گا، جب تک کہ بندہ لوگوں کے احسان کا شکر ادا نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1954 سے ماخوذ ہے۔