حدیث نمبر: 4810
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَقَدْ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں ( بہتر ) ہے ، سوائے آخرت کے عمل کے ۱؎ ۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ نیک کاموں میں تاخیر اور التواء «سارعوا إلى مغفرة من ربكم» کے منافی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش عنعن ولم أجد تصريح سماعه والمدلس إذا عنعن لا يحتج به عند الشافعي (الرسالة ص380 فقرة 1035،ص 379 فقرة : 1033) وغيره وھو الصواب, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3941) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نرمی کا بیان۔`
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں (بہتر) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ۱؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4810]
فوائد ومسائل:
ایسے تمام اعمال جو اللہ کی رضامندی کے حصول کا ذریعہ ہوں، حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ان کی انجام دہی میں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔
البتہ دنیاوی کاموں میں سوچ بچار اور مشورے سے اقدام کرنا چاہیئے۔
یہ حدیث بعض محقیقن کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیئے: (الصحیحة: حدیث: 1794) 
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4810 سے ماخوذ ہے۔