حدیث نمبر: 481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ : لَا يُصَلِّي لَكُمْ ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ) کہ` ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے ، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے “ ، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، ( میں نے منع کیا ہے ) “ ، صحابی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 481
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (747)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3789)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/56) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔`
ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے"، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، (میں نے منع کیا ہے)"، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: "تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 481]
481۔ اردو حاشیہ:
اس توبیخ پر قیاس کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شریعت میں بیان کردہ آداب و حدود کی خلاف ورزی اللہ اور رسول کو ایذا دینا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 481 سے ماخوذ ہے۔