سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي كَرَاهِيَةِ الرِّفْعَةِ فِي الأُمُورِ باب: معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا ڈینگیں مارنا برا ہے۔
حدیث نمبر: 4803
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے` اس میں ہے ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا ڈینگیں مارنا برا ہے۔`
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے، آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4803]
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے، آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4803]
فوائد ومسائل:
تواضع اور انکسار میں ہمیشہ خیر اور برکت ہو تی ہے۔
البتہ اثنائے جہاد میں کفار کے مقابلے میں اسلام اور مسلمانوں کی رفعت کا اظہار کرنے کے لیئے اترانا اور بڑائی کا اظہار کرنا جائز ہے۔
تواضع اور انکسار میں ہمیشہ خیر اور برکت ہو تی ہے۔
البتہ اثنائے جہاد میں کفار کے مقابلے میں اسلام اور مسلمانوں کی رفعت کا اظہار کرنے کے لیئے اترانا اور بڑائی کا اظہار کرنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4803 سے ماخوذ ہے۔