حدیث نمبر: 4800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَعْبٍ أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ ، وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ ، وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے ، اگرچہ وہ حق پر ہو ، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو ، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خوش اخلاقی کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4800]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4800]
فوائد ومسائل:
1) حق پر ہوتے ہو ئے جھگڑا چھوڑ دینا انتہائی عزیمت کا عمل ہے اور اس کا اجر جنت میں شاندار محل کی صورت حاصل ہو گا۔
2) مومن کے لیئے جھوٹ بولنا کسی طرح روا نہیں۔
سوائے اس کے کہ زوجین میں یا دو مسلمان بھائیوں میں صلح صفائی کے غرض سے کو ئی مناسب با ت بنا لی جائے۔
1) حق پر ہوتے ہو ئے جھگڑا چھوڑ دینا انتہائی عزیمت کا عمل ہے اور اس کا اجر جنت میں شاندار محل کی صورت حاصل ہو گا۔
2) مومن کے لیئے جھوٹ بولنا کسی طرح روا نہیں۔
سوائے اس کے کہ زوجین میں یا دو مسلمان بھائیوں میں صلح صفائی کے غرض سے کو ئی مناسب با ت بنا لی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4800 سے ماخوذ ہے۔
✍️ حافظ زبیر علی زئی
... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو... [ابوداود 4800]
لغت میں «المراء» کا مطلب ہے: ’’جھگڑا، کٹ حجتی، بحث‘‘ [القاموس الوحيد ص 1546 ا]
علامہ ابن الاثیر (متوفی606 ھ) لکھتے ہیں: «المراء: الجدل، والتماري والمماراة: المجادلة على مذهب الشك والريبة»
«مراء» جھگڑے کو کہتے ہیں اور تماری، مماراۃ کا معنی یہ ہے کہ شک و شبہ کی بنیاد پر جھگڑا کیا جائے۔
[النهاية فى غريب الحديث ج 4 ص 322]
معلوم ہوا کہ حدیث ِ مذکور میں احکام و اختلافی مسائل پر دعوت و تحقیق کے لیے بحث و مباحثہ مراد نہیں ہے۔
علامہ ابن اثیر مزید لکھتے ہیں: «وقيل: إنما جاء هذا فى الجدال والمراء فى الآيات التى فيها ذكر القدر ونحوه من المعاني على مذهب أهل الكلام وأصحاب الأهواء والآراء، دون ما تضمنته من الأحكام وأبواب الحلال والحرام فإن ذلك قد جري بين الصحابة فمن بعدهم من العلماء وذلك فيما يكون الغرض منه والباعث عليه ظهور الحق يتتبع دون الغلبة والتعجيز والله أعلم»
اور کہا گیا ہے کہ اس حدیث («لاتماروا فى القرآن» الخ) سے مراد، تقدیر وغیرہ کے مسائل میں آیات کریمہ میں، اہلِ کلام، اہل بدعت اور اہل رائے کی طرح جھگڑا کرنا ہے۔ اس سے احکام اور حلا ل وحرام والے مباحث مراد نہیں ہیں کیونکہ یہ بحثیں (اور مناظرے) تو صحابہ کرام اور بعد والے علماء کے درمیان ہوئے ہیں، ان کی غرض وغایت یہ تھی کہ حق واضح ہو جائے تاکہ حق کی اتباع کی جائے، ان سے مخالف پرمجرد غلبہ یاعاجز کرنا مراد نہیں تھا۔ واللہ اعلم
(النہایہ 4/ 322)
﴿وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن﴾ اور اچھے طریقے کے ساتھ ان لوگوں سے مجادلہ (بحث) کرو (النحل: 125)۔ جائز مناظرے کے جواز کی دلیل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کاارشاد ہے کہ ((بلّغوا عني ولو آیۃ)) إلخ مجھ سے (دین لے کر) لوگوں تک پہنچا دو چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح البخاری: 3461)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ایک کافر سے مناظرہ قرآن مجید میں مذکورہے۔ (سورۃ البقرۃ: 258)
مستدرک الحاکم (2/ 593۔594 ح 4157) میں نجران کے عیسائیوں کا نبی ﷺ سے بحث و مباحثہ مذکور ہے۔ وصححہ الحاکم علی شرط مسلم ووافقہ الذہبی
صحیح بخاری میں ایک فقہی مسئلے پر سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہما کا مناظرہ موجودہے۔ (345، 346)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خوارج سے مناظرہ کرنا ثابت ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 8/ 179 وسندہ حسن)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’فکل لم یناظر أھل الالحاد والبدع مناظرۃ تقطع دابرھم، لم یکن أعطی الإسلام حقہ ولاوفی بموجب العلم والإیمان ولا حصل بکلامہ شفاء الصدور وطمأنینۃ النفوس ولا أفاد کلامہ العلم والیقین‘‘
پس ہر شخص جو ملحدین و مبتدعین سے (عالم ہونے کے باوجود) بنیاد کاٹ دینے والا مناظرہ نہ کرے تو اس نے اسلام کا حق ادا نہیں کیا اور نہ علم وایمان کا تقاضا پورا کیا ہے۔ اس کے کلام سے دلوں کی شفا اور اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور نہ اس کا کلام علم ویقین کا فائدہ دیتا ہے۔
(درء تعارض العقل والنقل ج 1 ص 357)
معلوم ہوا کہ اہلِ باطل اور لاعلم لوگوں کو کتاب و سنت کے دلائل سنا کر حق واضح کرنا دین کی بہت بڑی خدمت ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے توضیح الاحکام (ج 1 ص 107 تا 111)
علامہ ابن الاثیر (متوفی606 ھ) لکھتے ہیں: «المراء: الجدل، والتماري والمماراة: المجادلة على مذهب الشك والريبة»
«مراء» جھگڑے کو کہتے ہیں اور تماری، مماراۃ کا معنی یہ ہے کہ شک و شبہ کی بنیاد پر جھگڑا کیا جائے۔
[النهاية فى غريب الحديث ج 4 ص 322]
معلوم ہوا کہ حدیث ِ مذکور میں احکام و اختلافی مسائل پر دعوت و تحقیق کے لیے بحث و مباحثہ مراد نہیں ہے۔
علامہ ابن اثیر مزید لکھتے ہیں: «وقيل: إنما جاء هذا فى الجدال والمراء فى الآيات التى فيها ذكر القدر ونحوه من المعاني على مذهب أهل الكلام وأصحاب الأهواء والآراء، دون ما تضمنته من الأحكام وأبواب الحلال والحرام فإن ذلك قد جري بين الصحابة فمن بعدهم من العلماء وذلك فيما يكون الغرض منه والباعث عليه ظهور الحق يتتبع دون الغلبة والتعجيز والله أعلم»
اور کہا گیا ہے کہ اس حدیث («لاتماروا فى القرآن» الخ) سے مراد، تقدیر وغیرہ کے مسائل میں آیات کریمہ میں، اہلِ کلام، اہل بدعت اور اہل رائے کی طرح جھگڑا کرنا ہے۔ اس سے احکام اور حلا ل وحرام والے مباحث مراد نہیں ہیں کیونکہ یہ بحثیں (اور مناظرے) تو صحابہ کرام اور بعد والے علماء کے درمیان ہوئے ہیں، ان کی غرض وغایت یہ تھی کہ حق واضح ہو جائے تاکہ حق کی اتباع کی جائے، ان سے مخالف پرمجرد غلبہ یاعاجز کرنا مراد نہیں تھا۔ واللہ اعلم
(النہایہ 4/ 322)
﴿وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن﴾ اور اچھے طریقے کے ساتھ ان لوگوں سے مجادلہ (بحث) کرو (النحل: 125)۔ جائز مناظرے کے جواز کی دلیل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کاارشاد ہے کہ ((بلّغوا عني ولو آیۃ)) إلخ مجھ سے (دین لے کر) لوگوں تک پہنچا دو چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح البخاری: 3461)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ایک کافر سے مناظرہ قرآن مجید میں مذکورہے۔ (سورۃ البقرۃ: 258)
مستدرک الحاکم (2/ 593۔594 ح 4157) میں نجران کے عیسائیوں کا نبی ﷺ سے بحث و مباحثہ مذکور ہے۔ وصححہ الحاکم علی شرط مسلم ووافقہ الذہبی
صحیح بخاری میں ایک فقہی مسئلے پر سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہما کا مناظرہ موجودہے۔ (345، 346)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خوارج سے مناظرہ کرنا ثابت ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 8/ 179 وسندہ حسن)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’فکل لم یناظر أھل الالحاد والبدع مناظرۃ تقطع دابرھم، لم یکن أعطی الإسلام حقہ ولاوفی بموجب العلم والإیمان ولا حصل بکلامہ شفاء الصدور وطمأنینۃ النفوس ولا أفاد کلامہ العلم والیقین‘‘
پس ہر شخص جو ملحدین و مبتدعین سے (عالم ہونے کے باوجود) بنیاد کاٹ دینے والا مناظرہ نہ کرے تو اس نے اسلام کا حق ادا نہیں کیا اور نہ علم وایمان کا تقاضا پورا کیا ہے۔ اس کے کلام سے دلوں کی شفا اور اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور نہ اس کا کلام علم ویقین کا فائدہ دیتا ہے۔
(درء تعارض العقل والنقل ج 1 ص 357)
معلوم ہوا کہ اہلِ باطل اور لاعلم لوگوں کو کتاب و سنت کے دلائل سنا کر حق واضح کرنا دین کی بہت بڑی خدمت ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے توضیح الاحکام (ج 1 ص 107 تا 111)
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 107 سے ماخوذ ہے۔