سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ باب: حسن معاشرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4794
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا الْتَقَمَ أُذُنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُنَحِّي رَأْسَهُ ، حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأَسَهُ ، وَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَتَرَكَ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو ( کچھ کہنے کے لیے ) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے ، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو ، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو ، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حسن معاشرت کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو (کچھ کہنے کے لیے) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4794]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو (کچھ کہنے کے لیے) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4794]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک سندًا ضعیف ہے اور بعض کے نزدیک حسن درجے کی ہے تفصیل کے لیئے دیکھئے: (الصحیحة، حدیث: 2485)
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک سندًا ضعیف ہے اور بعض کے نزدیک حسن درجے کی ہے تفصیل کے لیئے دیکھئے: (الصحیحة، حدیث: 2485)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4794 سے ماخوذ ہے۔