سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ ، وَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَمَالِكٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا ۔ راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎ ، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک ، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے ( براہ راست ) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے ، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے ( زعفران کے بجائے ) «خلوق» ( ایک قسم کی خوشبو ) کا ذکر کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ حالت نماز ہی میں آپ نے اس کو صاف کرڈالا تھا۔
(1)
اس روایت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوران نماز ہی میں تھوک کو زائل کیا لیکن پہلے یہ روایت مالک عن نافع کے طریق سے گزرچکی ہے، وہاں دوران نماز میں کے الفاظ نہیں تھے۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ، حضرت عائشہ، حضرت ابو سعید اور حضرت انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی یہ حدیث گزرچکی ہے، ان تمام احادیث میں دوران نماز میں کے الفاظ نہیں ہیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے نماز میں نہیں بلکہ فراغت کے بعد ہی ایسا عمل فرمایا تھا۔
بعض دفعہ راویوں کے تصرفات وتسامحات کی وجہ سے روایت کے الفاظ مقدم و مؤخر ہوجاتے ہیں جس سے مقصد برعکس ہو جاتا ہے۔
(2)
موسیٰ بن عقبہ کی روایت کو امام مسلم ؒ نے متصل سند سے بیان کیا ہے جبکہ ابن ابو رواد کی روایت، جسے امام احمد ؒ نے موصولا بیان کیا ہے، میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز سے فراغت کے بعد تھوک کو زائل کیا تھا۔
(مسندأحمد: 34/2)
والله أعلم۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 455)
کیونکہ مساجد، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ جگہیں ہیں۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1528(671)
ایک اور حدیث میں مسجد میں تھوکنے کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے دفن کر دیا جائے۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 415)
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلے کی جانب تھوک دیکھا تو آپ نے ایک شاخ سے اسے صاف کر دیا، پھر آپ نے اس بلغم والی جگہ پر خوشبو لگائی۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 485) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صرف اس لیے امامت سے الگ کر دیا تھا کہ اس نے مسجد میں قبلے کی جانب تھوک دیا تھا۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 481)
ایسے حالات میں مسجد کے تقدس کو ماپال ہوتا دیکھ کر آپ کیسے خاموش رہ سکتے تھے، آپ کا غصہ برمحل اور اللہ تعالیٰ کے لیے تھا۔
جسے آپ نے امامت سے الگ کیا تھا، اسے فرمایا: ’’اس کام سے تو نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔
‘‘
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحالت نماز دیوارقبلہ پر نخامہ (بلغم)
دیکھا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 753)
دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اہل مسجد پر خفا ہوئے اور انھیں وعظ فرمایا، پھر منبر سے اُترے اور اسے اپنے ہاتھوں سے دورفرمایا۔
(صحیح البخاري، العمل في الصلاة، حدیث: 1213)
علامہ اسماعیلی ؒ نے اپنی بیان کردہ روایت میں صراحت کی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے زعفران منگوایا اور اسے تھوک کی جگہ پر لگایا۔
مساجد میں زعفران استعمال کرنے کی سنت اسی بنا پر قائم ہوئی۔
(فتح الباري: 659/1)
2۔
مسجد میں تھوکنے سے ممانعت کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں:۔
بندے کا اپنے رب سے مناجات میں مشغول ہونا۔
۔
اللہ تعالیٰ کانمازی اور قبلے کے درمیان ہونا۔
۔
دیوار قبلہ کا احترام۔
نماز کااحترام اورکاتب حسنات فرشتے کا احترام۔
یہ سب وجوہ اشارتاً یا دلالتاً نصوص سے ثابت ہیں، لہذا ان سب وجوہ کے مجموعے کو باعث ممانعت قراردیاجائے تو بہتر ہے، خاص طور پر نماز ی کا مناجات حق کے وقت بہترین حالت میں ہونا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، اس لیے ایسی حالت میں تھوکنا مناسب نہیں ہے، البتہ کسی مجبوری کے پیش نظر ایسا کیاجاسکتا ہے۔
اس مجبوری سے عہدہ برآہونے کے لیے مختلف طریقے احادیث میں بتائے گئے ہیں جن کا آئندہ تذکرہ ہوگا۔
3۔
امام بخاری ؒ نے مساجد سے متعلق ان ابواب میں دو چیزیں بیان فرمائی ہیں:۔
آداب مسجد، انھیں مختلف انداز میں ثابت فرمایا، مثلاً: حک بزاق (تھوک کاکھرچنا)
وغیرہ۔
۔
کچھ چیزوں کا استثناء فرمایا جن کا مسجد میں کرناجائز ہے۔
جیسا کہ مسجد میں سوناوغیرہ، کیونکہ مساجد کے متعلق کچھ تشددات اوروعیدات وارد ہوئی ہیں اور پھر ان کے کچھ آداب بھی ذکر ہوئے ہیں جن سے شبہ ہوسکتا ہے کہ ان میں تلاوت قرآن، ذکراللہ اور ادائے نماز کے علاوہ دوسرا کوئی کام نہ کیا جائے۔
امام بخاری ؒ نے ان ابواب میں ایسی باتوں یا ایسے کاموں کا تذکرہ کیا ہے جنھیں مسجد میں کیا جاسکتا ہے۔
نما ز میں قبلہ کی طرف تھوکنے سے منع فرمایا۔
نہ کہ مطلق تھوک ڈالنے سے بلکہ اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنے کی اجازت فرمائی جیسا کہ اگلی حدیث میں مذکور ہے۔
جب تھوک مسجد میں پختہ فرش ہونے کی وجہ سے دفن نہ ہو سکے تو رومال میں تھوکنا چاہیے۔
پھونک مارنا بھی کسی شدید ضرورت کے تحت جائز ہے بلا ضرورت پھونک مارنا نماز میں خشوع کے خلاف ہے۔
اس لحاظ سے گویا وہ سامنے موجود ہے، اس کو آپﷺ نے سامنے ہونے سے تعبیر فرمایا ہے اصل مقصد یہ ہے کہ قبلہ کا احترام و اعزاز ہونا چاہیے حالت نماز میں ہو یا نماز سے خارج ہو انسان کسی بھی وقت قبلہ کی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 725]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ” جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 763]
فوائد و مسائل:
(1)
نماز میں بندہ اللہ تعالی کے حضور اپنی بندگی کا اظہار کرتا ہے لہٰذا اس وقت سامنے تھوکنا اس ادب واحترام کے منافی ہے جس کا اختیار کرنا ایسے موقعوں پر ضروری ہے۔
(2)
اللہ تعالی کے نمازی کے سامنے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔
(3)
اس سے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالی کی ذات ہر جگہ موجود ہے۔
اس مسئلہ میں صحیح موقف یہی ہے کہ اللہ تعالی اپنی ذات کے لحاظ سے آسمانوں سے اوپر عرش عظیم پر ہے لیکن اس کا علم قدرت اور رحمت ہر شے کو محیط ہے۔
محدثین کرام کا یہی مسلک ہےجس کے دلائل قرآن وحدیث میں اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں جیسے اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ﴾ (طه: 5)
’’وہ رحمٰن ہے جس نے عرش پر قرار پکڑا ہے۔‘‘
جبکہ حدیث میں اس کی دلیل مشہور ومعروف حدیث جاریہ ہے۔
حضرت معاویہ سلمی کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد پہاڑ اور جوانیہ کے درمیان میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔
ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور بکریوں میں سے ایک کو اٹھا کر لے گیا۔ (مجھے اس کی غفلت پر غصہ آیا)
تو میں نے اس کو زور سے تھپڑ مارا۔ (پھر مجھے ندامت محسوس ہوئی)
تو میں نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بیان کردیا۔
نبی کریمﷺ نے بھی اسے سخت ناپسند کیا۔
میں نے خواہش ظاہر کی کہ کیا میں اسے آزاد نہ کردوں؟ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ لونڈی کو بلا لاؤں۔
جب وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ تعالی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالی آسمان میں ہے۔
آپ نے سوال کیا کہ میں کون ہوں؟ لونڈی نے جواب دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ سن کر آپ نے مجھے حکم دیا کہ ’’میں لونڈی کو آزاد کردوں کیونکہ یہ مومنہ ہے۔‘‘
(صحيح مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة۔
۔
۔
۔
۔
، حدیث: 537)
نيز الله تعالي اپنے علم، قدرت، رحمت اور حفاظت کے ساتھ اپنے نیک بندوں کا ساتھ دیتا ہے۔
فرمان الہی ہے: ﴿وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ﴾ (المائدة: 12)
’’اور اللہ نے فرمایا میں تمھارے ساتھ ہوں۔‘‘
حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں: یعنی اپنی حفاظت اور مدد کے ساتھ۔
ارشاد باری تعالی ہے ﴿وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ (البقره: 19)
اور الله تعالی کافروں کو گھیرنے والا ہے (اپنی قدرت ومشیت سے۔)
حافظ ابن کثیر ؒ اللہ تعالی کے ارشاد مبارک: ﴿قَالَ لَا تَخَافَا ۖ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ﴾ (طه: 46)
اللہ تعالی نے فرمایا: تم بالکل خوف نہ کھاؤ میں تمھارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا ۔
کی تفسیر میں لکھتے ہیں: یعنی اپنی نصرت وتائید وحفاظت کے ساتھ تمھارے ساتھ رہوں گا۔
اس معنی کی وضاحت کے لیے ویگر فرامین الہی اور احادیث نبویہ بکثرت موجود ہیں۔
’’وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَلِکَ۔‘‘
«. . . وبه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى بصاقا فى جدار القبلة فحكه: ثم اقبل على الناس فقال: ”إذا كان احدكم يصلي فلا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى . . .»
”. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی طرف دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے کھرچ (کر صاف کر) دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے سامنے اللہ ہوتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 96]
تفقہ:
① قبلہ رخ تھوکنا حرام ہے۔
② ایک شخص کسی قبیلے کا امام تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں قبلے کی طرف تھوکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا یصلي لکم۔» یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ پھر اس نے بعد میں نماز پڑھانے کی کوشش کی تو لوگوں نے اسے روک دیا۔ [سنن ابي داود: 481 وسنده حسن و صححه ابن حسان: 334]
معلوم ہوا کہ فاسق فاجر اور حدیث کی مخالفت کرنے والے شخص کو امامت سے ہٹایا جا سکتا ہے لہٰذا بدعتی کو کبھی امام نہیں بنانا چاہئے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «مَنْ صَلَّى فَبَزَقَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَتْ بَزْقَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيْ وَجْهِهِ» جس شخص نے نماز پڑھی (اور) قبلے کی طرف تھوکا (تو) قیامت کے دن اس کا تھوک اس کے چہرے پر (لگا ہوا) ہو گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه 2/365 ح7455، وسنده صحيح]
④ اس حدیث سے بھی نماز کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔
⑤ عالم ہو یا عامی، اپنی وسعت کے مطابق مسجد کی صفائی کرنا سنت ہے۔
⑥ اگر کسی شخص کو نماز میں تھوکنے کی ضرورت محسوس ہو تو اپنی چادر یا کپڑے میں تھوک لے۔
⑦ مسلمان کو کسی طرح بھی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے۔
⑧ اس پر اجماع ہے کہ عملِ قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ دیکھئے [التمهيد 14/155]
⑨ اگر کوئی شخص کسی مجبوری یا بیماری کی وجہ سے لمبا سانس لیتا یا کھنکھارتا ہے تو اس سے نماز خراب نہیں ہوتی لیکن بعض لوگ عادت سے مجبور ہو کر یا ویسے ہی کھنکارتے رہتے ہیں، ان لوگوں کو ایسی حرکات سے اجتناب کرنا چاہئے۔
⑩ ”اس کے سامنے اللہ ہوتا ہے۔“ سے مراد ”اس کے سامنے اللہ کا قبلہ ہوتا ہے۔“ دیکھئے: [معالم السنن للخطابي 124/1]
لہٰذا اس حدیث سے معتزلہ کا یہ استدلال غلط اور باطل ہے کہ اللہ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو پر کپڑے پر اور قدموں کے نیچے بھی تھوکنا جائز نہ ہوتا حالانکہ یہ بالاجماع جائز ہے۔ [التمهيد 157/14، نيز ديكهئے ح 460]