سنن ابي داود
كتاب الأدب— کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْغَضَبِ باب: غصے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 4784
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيِّ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ ، فَأَغْضَبَهُ ، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ تَوَضَّأَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ ، وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ ، فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابووائل قاص کہتے ہیں کہ` ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے ، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کر دیا ، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا ، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے ، اور بولے : میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے ، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے ، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے ، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کر لے “ ۔