حدیث نمبر: 4780
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : " اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى خُيِّلَ إِلَيَّ أَنَّ أَنْفَهُ يَتَمَزَّعُ مِنْ شِدَّةِ غَضَبِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُهُ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ : مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " ، قَالَ : فَجَعَلَ مُعَاذٌ يَأْمُرُهُ فَأَبَى وَمَحِكَ ، وَجَعَلَ يَزْدَادُ غَضَبًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا “ عرض کیا : کیا ہے وہ ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» ” اے اللہ ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے ، لیکن اس نے انکار کیا ، اور لڑنے لگا ، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4780
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, سنده ضعيف, ترمذي (3452), عبد الرحمٰن بن أبي ليلي لم يدرك سيدنا معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه, و للحديث شاھد ضعيف عند النسائي في الكبري (10223) فيه عبد الملك بن عمير مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 52 (3452)، (تحفة الأشراف: 11342)، وقد أ خرجہ: مسند احمد (5/240، 244) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3452

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3452 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غصہ آنے پر کیا پڑھے؟`
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالی گلوچ کیا ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ کافور ہو جائے، وہ کلمہ یہ ہے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» " میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3452]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح البخاري، بدء الخلق: 11/ 3282 و الأدب: 76/ 6115، ومسلم، البر والصلة: 2610 (109، 110)، وأبوداؤد: 4781، نسائي في عمل الیوم و اللیلة: 393 والکبريٰ: 10225)
2؎:
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے۔

نوٹ:
(عبد الرحمن بن ابی لیلی کا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، نسائی نے یہ حدیث بسند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عن ابی بن کعب روایت کی ہے، جو متصل سند ہے، نیز یہ حدیث جیسا کہ ترمذی نے ذکر کیا، سلیمان بن صرد سے آئی ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، اور سلیمان بن صرد کی حدیث متفق علیہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3452 سے ماخوذ ہے۔