حدیث نمبر: 4776
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ ، وَالِاقْتِصَادَ ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راست روی ، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ یہ خصلتیں اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو عطا کی ہیں، لہٰذا انہیں اپنانے میں ان کی پیروی کرو، یہ معنیٰ نہیں کہ نبوت کوئی ذو اجزاء چیز ہے، اور جس میں یہ خصلتیں پائی جائیں گی اس کے اندر نبوّت کے کچھ حصے پائے جائیں گے کیونکہ نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک اعزاز ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس اعزاز سے نوازتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (5059، 5060), وله شاھد عند الترمذي (2010 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5402)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/296) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنجیدگی اور وقار سے رہنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راست روی، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4776]
فوائد ومسائل:
یہ وہ عظیم اور اہم عمل ہیں جن سے انبیاء ؑ موصوف رہے ہیں اور اپنی امتوں کو ان کے اختیار کرنے کی دعوت دیتے رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4776 سے ماخوذ ہے۔