حدیث نمبر: 4770
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمُخْدَجُ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكَانَ فَقِيرًا وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاكِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ النَّاسِ ، وَقَدْ كَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي " ، قَالَ أَبُو مَرْيَمَ : وَكَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّى نَافِعًا ذَا الثُّدْيَةِ ، وَكَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، عَلَى رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ ، عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السَّنَّوْرِ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابومریم کہتے ہیں کہ` یہ «مخدج» ( لنجا ) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے ، وہ فقیر تھا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی رضی اللہ عنہ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا ۔ ابومریم کہتے ہیں : لوگ «مخدج» ( لنجے ) کو «نافعا ذا الثدية» ( پستان والا ) کا نام دیتے تھے ، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا ، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أبو مريم الثقفي ثقة ونعيم بن حكيم حسن الحديث علي الراجح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10333) (ضعیف الإسناد) » (اس کے راوی نُعیم حافظہ کے کمزور راوی ہیں)