سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَضِيءِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى فِي طِينٍ ، قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ قُرَيْطِقٌ لَهُ إِحْدَى يَدَيْنِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، عَلَيْهَا شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ شُعَيْرَاتِ الَّتِي تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالوضی کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ نے کہا : «مخدج» ( لنجے ) کو تلاش کرو ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا ، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں ، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے ، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے ، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں ، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں ۔