حدیث نمبر: 4761
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، أخبرنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، أخبرنا الْحَسَنُ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : فَمَنْ كَرِهَ ، فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ أَنْكَرَ ، فَقَدْ سَلِمَ " قَالَ قَتَادَةُ : يَعْنِي مَنْ أَنْكَرَ بِقَلْبِهِ ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہو گیا اور جس نے کھل کر انکار کر دیا تو وہ محفوظ ہو گیا “ قتادہ کہتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4760)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18166) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خوارج سے قتال کا بیان۔`
اس سند سے بھی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہو گیا اور جس نے کھل کر انکار کر دیا تو وہ محفوظ ہو گیا قتادہ کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4761]
فوائد ومسائل:
دل سے برا جاننے کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے آدمی کو عزم رکھنا چاہیے کہ آج تو نہیں کل لاں جب ممکن ہوا اس برائی کا قلع قمع کرکے رہوں گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4761 سے ماخوذ ہے۔