سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4745
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : أخبرنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا ، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے سامنے ( قیامت کے دن ) ایک حوض ہو گا ، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: «جرباء» اور «اذرح» نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
۲؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6577 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6577. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہوگا۔ وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6577]
حدیث حاشیہ: جرباء اور اذرجاء شام کے ملک میں دو گاؤں ہیں جن میں تین دن کی راہ ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک مہینے کی راہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے۔
تیسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعا میں ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے۔
پانچویں حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ سے جحیفہ تک ہے۔
یہ سب آپ نے تقریباً لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرمایا جو جو مقام وہ پہچانتے تھے وہ بیان فرمائے۔
ممکن ہے کسی روایت میں طول کا بیان ہو اور کسی میں عرض کا۔
قسطلانی نے کہا کہ یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں یعنی آدھے مہینے کی مسافت یا اس سے کچھ زائد۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6577 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6577 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6577. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہوگا۔ وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6577]
حدیث حاشیہ:
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم
(1)
جرباء اور اذرح شام کے علاقے میں دو گاؤں ہیں جن کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ میرا حوض ایک ماہ کی مسافت ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ جتنا فاصلہ ایلہ اور صنعاء میں ہے، تیسری حدیث میں ہے جتنا فاصلہ مدینہ اور صنعاء میں ہے، چوتھی حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے عدن تک ہے، پانچویں حدیث میں ہے جتنا فاصلہ ایلہ سے جحفه تک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان مسافتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
لوگ جو جو مقام جانتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائے۔
(2)
ممکن ہے کہ کسی حدیث میں حوض کے طول اور کسی میں اس کے عرض کا بیان ہو۔
یہ سب مقام قریب قریب ایک ہی فاصلہ رکھتے ہیں، یعنی آدھے ماہ کی مسافت یا اس سے کچھ کم و بیش، پھر تیز رفتار سواری اور سست رفتار سواری کے اعتبار سے بھی مسافت میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
(فتح الباري: 574/11)
کچھ لوگوں نے اس اختلاف کے پیش نظر حوض کوثر ہی کا انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اتنی تعداد میں صحیح حدیثیں ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6577 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2299 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارےآگے حوض ہے، اس کے دونوں کناروں کا فاصلہ، اتنا ہے، جتنا جرباء اور اذرح کا فاصلہ۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5984]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: علامہ ضیاء الدین المقدسی کا موقف یہ ہے کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، عرضُه مثل ما بينكم و بين جرباء اذرح، اس کا عرض تمہارے یعنی اہل مدینہ کے جرباء، ازرح کے درمیان فاصلہ کے برابر ہے، اس لیے حدیث میں ہو گا، كما بين مقامی و بين جرباء اذرح: جتنا فاصلہ میرے کھڑے ہونے کی جگہ اور جربا و اذرح کے درمیان ہے اور سنن دارقطنی کی روایت ہے، ما بين المدنة و جرباء و اذرح، (فتح الباري ج 11 ص 472، مکتبة دار المعرفة)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2299 سے ماخوذ ہے۔