سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ باب: جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان۔
حدیث نمبر: 4742
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أخبرنا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : أخبرنا أَسْلَمُ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «صور» ایک سنکھ ہے ، جس میں پھونک ماری جائے گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صور» ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4742]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صور» ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4742]
فوائد ومسائل:
حضرت اسرافیل ؑ اپنے منہ میں صور لیے امرالہٰی کے منتظرکھڑے ہیں، جب حکم ہو گا تو وہ اس میں پھونک ماریں گے اورساری دنیا فنا ہو جائے گی، پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ پھونکیں گے تو سب جی اٹھیں گے۔
حضرت اسرافیل ؑ اپنے منہ میں صور لیے امرالہٰی کے منتظرکھڑے ہیں، جب حکم ہو گا تو وہ اس میں پھونک ماریں گے اورساری دنیا فنا ہو جائے گی، پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ پھونکیں گے تو سب جی اٹھیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4742 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3244 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ایک سینگ (بھوپو) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3244]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ایک سینگ (بھوپو) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3244]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تو آواز گونجتی اور دور تک جاتی ہے۔
وضاحت:
1؎:
تو آواز گونجتی اور دور تک جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3244 سے ماخوذ ہے۔