حدیث نمبر: 4736
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُمَرَ ، أنبأنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ ، فَقَرَأَ ابْنٌ لَهُ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ ، فَضَحِكْتُ ، فَقَالَ : أَتَضْحَكُ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑکے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی ، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا : کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو ؟
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان۔`
عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑکے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو؟ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4736]
عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑکے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو؟ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4736]
فوائد ومسائل:
عیسائیوں کے نزدیک بھی اللہ عزوجل کلام صفت کلام سے موصوف ہے۔
بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
عیسائیوں کے نزدیک بھی اللہ عزوجل کلام صفت کلام سے موصوف ہے۔
بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4736 سے ماخوذ ہے۔