حدیث نمبر: 4735
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ , قَالَتْ : " وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرما دے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4735
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, رواه البخاري (7500) ومسلم (2770) مطولًا
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الشھادت 15 (2661)، المغازي 12 (4025)، 34 (4141)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، (تحفة الأشراف: 16126، 16128، 16311، 16576، 17409، 17412) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4735]
فوائد ومسائل:
1: غزوہ نبی مصطلق 5 یا 6 ہجری میں منافقین نے سیدہ عائشہ رضی اللہ پر بہتان کا ایک بہت بڑا پہاڑ توڑ دیا تھا جو خود سیدہ کے لئے، رسولؐ اور دیگر تمام اہل ایمان کے لئے انتہائی کرب واذیت کا باعث بنا، مگر اس کا انجام اس اعتبار سے بہت مسرت افزا رہا کہ ان کی براءت میں سولہ آیتیں نازل ہوئیں (سورۃالنور آیت 11 سے 26) جو ان کی مدح وستائش میں قیامت تک تلاوت ہوتی رہیں گی۔

2: اس واقعہ اور روایت میں اللہ عزوجل کی صفت کلام کا ذکر کیا گیا ہے۔

3: مذکورہ واقعہ ایک حادثہ تھا، مگر کلام اللہ کا حادث نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4735 سے ماخوذ ہے۔