حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أخبرنا حَمَّادٌ . ح وأخبرنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أخبرنا شُعْبَةُ الْمَعْنَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ مُوسَى : ابْنِ عُدُسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ مُوسَى : الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ ؟ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ ؟ قَالَ : يَا أَبَا رَزِينٍ ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ ؟ , قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَاللَّهُ أَعْظَمُ ؟ , قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : قَالَ : فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ ، فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ " .
´ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو ( قیامت کے دن ) بلا رکاوٹ دیکھے گا ؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابورزین ! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے ؟ “ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے “ ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے ، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۱؎ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابورزین! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟ “، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ (چاند) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 180]
گویا اکیلا ہی دیکھ رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی کثرت کے باوجود کسی کو اسے دیکھنے میں کوئی مشقت یا دشواری پیش نہیں آتی۔