حدیث نمبر: 4731
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أخبرنا حَمَّادٌ . ح وأخبرنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أخبرنا شُعْبَةُ الْمَعْنَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ مُوسَى : ابْنِ عُدُسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ مُوسَى : الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ ؟ قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ ؟ قَالَ : يَا أَبَا رَزِينٍ ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ ؟ , قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : لَيْلَةَ الْبَدْرِ مُخْلِيًا بِهِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَاللَّهُ أَعْظَمُ ؟ , قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : قَالَ : فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ ، فَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو ( قیامت کے دن ) بلا رکاوٹ دیکھے گا ؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابورزین ! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے ؟ “ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے “ ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے ، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب اس کی مخلوق کو ہر ایک بلا روک ٹوک دیکھ لیتا ہے تو اللہ کو جو اس سے بہت ہی بڑا ہے کیوں نہیں دیکھ سکتا؟۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4731
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5658), أخرجه ابن ماجه (180 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (180)، (تحفة الأشراف: 11175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 180

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 180 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابورزین! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ (چاند) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 180]
اردو حاشہ:
گویا اکیلا ہی دیکھ رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی کثرت کے باوجود کسی کو اسے دیکھنے میں کوئی مشقت یا دشواری پیش نہیں آتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 180 سے ماخوذ ہے۔