حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ المعنى ، قَالَا : أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، أخبرنا حَرْمَلَةُ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ : " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58 ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : قَالَ الْمُقْرِئُ : يَعْنِي إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ : يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا , قال أَبُو دَاوُد : وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» ” اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔ ۔ ۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے “ ( سورۃ النساء : ۵۸ ) تک پڑھتے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے ، ( یعنی شہادت کی انگلی کو ) ، ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا ۔ ابن یونس کہتے ہیں : عبداللہ بن یزید مقری نے کہا : یعنی «إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ جہمیہ کا رد ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» ” اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔۔۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے “ (سورۃ النساء: ۵۸) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو)، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4728]
یہ اور اس معنی کی دیگر احادیث میں بنی ؐ کا کان اور آنکھ کی طرف اشارہ کرنا تشبیہ کے لئے نہیں، بلکہ صفت سمع اور بصر کے اثبات اور سامعین کے لئے تقریب معنی کے لئے تھا۔
کیون کہ قرآن کریم میں بصراحت وارد ہے: (ليسَ كَمِثلِه شيءٌ وهو السميعُ البصيرُ) (الشوري:١١) اس کی مثل کو ئی چیز نہیں، وہ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔