حدیث نمبر: 4727
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أخبرنا أَبِي ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ ، مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے، اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول و عرض اور عظمت و جثہ بتانا ہے، اور ستر کا عدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5728), أخرجه ابن طھمان (21 وسنده صحيح/معاذ),
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3086) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جہمیہ کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4727]
فوائد ومسائل:
جب اللہ عزوجل کی مخلوق میں سے ایک فرشتے کی بڑائی کا یہ حال ہے تواللہ عزوجل کی عظمت وکبریائی اوربڑائی کا کیا ٹھکانا ہو گا۔
جو بلا شبہ ہمارے لئے ناقابل تصور ہے اور وہ بے مثل وبے مثال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4727 سے ماخوذ ہے۔