سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیبہ ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جیسی نیت ہو گی اسی کے مطابق اسے اجر و ثواب ملے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیبہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 472]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیبہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 472]
472۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن معناً صحیح ہے۔ کیونکہ یہ حدیث «إِنما الأعمالُ بِالنياتِ» صحيح بخاري، حديث نمبر: [1] کے ہم معنی ہے، یہ حدیث انتہائی اہم ہے کہ انسان کو خیال رکھنا چاہیے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ وہ کس نیت سے اپنے اعمال سر انجام دے رہا ہے۔ جو نیت ہو گی اس کے مطابق اجر ملے گا، چاہیے کہ ہمیشہ اللہ کی رضا پیش نظر رہے۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن معناً صحیح ہے۔ کیونکہ یہ حدیث «إِنما الأعمالُ بِالنياتِ» صحيح بخاري، حديث نمبر: [1] کے ہم معنی ہے، یہ حدیث انتہائی اہم ہے کہ انسان کو خیال رکھنا چاہیے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ وہ کس نیت سے اپنے اعمال سر انجام دے رہا ہے۔ جو نیت ہو گی اس کے مطابق اجر ملے گا، چاہیے کہ ہمیشہ اللہ کی رضا پیش نظر رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 472 سے ماخوذ ہے۔