سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔
حدیث نمبر: 4718
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ فِي النَّارِ فَلَمَّا قَفَّى ، قَالَ : إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد کہاں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد جہنم میں ہیں “ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: امام نووی فرماتے ہیں کہ اس سے صاف ظاہر ہے اہل فترہ (عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے لوگ) اگر مشرک ہیں تو جہنمی ہیں، کیونکہ ان کو دعوت ابراہیمی پہنچی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے بارے میں یہ حدیث نص صریح ہے، علامہ سیوطی وغیرہ نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوبارہ زندہ فرمایا، یا وہ ایمان لائے اور پھر مر گئے،تو یہ محض موضوع من گھڑت روایات پر مبنی ہے، ائمہ حدیث مثلا دارقطنی، جورقانی، ابن شاہین، ابن عساکر، ابن ناصر، ابن الجوزی، سہیلی، قرطبی، محب الطبری، ابن سیدالناس، ابراہیم الحلبی وغیرہم نے ان احادیث کو مکذوب مفتری اور موضوع قرار دیا ہے، علامہ ابراہیم حلبی نے اس بارے میں مستقل کتاب لکھی ہے، اسی طرح ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور ایک مستقل کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے ایمان کی بات غلط محض ہے، علی کل حال اس مسئلہ میں زیادہ نہیں پڑنا چاہیئے بلکہ اپنی نجات کی فکر کرنی چاہیئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے والد جہنم میں ہیں “ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4718]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے والد جہنم میں ہیں “ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4718]
فوائد ومسائل:
1۔
ایمان وعمل کے بغیر محض نسب اور قرابت داری کسی کے باعث نجات نہیں۔
2: ایسی تمام روایات جن میں رسول ؐ کے والدین کو دوبارہ زندہ کیے جانے اور ان کے اسلام کرنے کا ذکر ہے، ضعیف اور ناقاقبل حجت ہیں۔
3:اس بارے میں بحث وگفتگو کی بجائے سکوت (خاموشی) بہتر ہے۔
1۔
ایمان وعمل کے بغیر محض نسب اور قرابت داری کسی کے باعث نجات نہیں۔
2: ایسی تمام روایات جن میں رسول ؐ کے والدین کو دوبارہ زندہ کیے جانے اور ان کے اسلام کرنے کا ذکر ہے، ضعیف اور ناقاقبل حجت ہیں۔
3:اس بارے میں بحث وگفتگو کی بجائے سکوت (خاموشی) بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4718 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 203 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں، کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! میرا باپ کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ آگ میں‘‘ جب وہ پشت پھیر کر چلا، تو آپﷺ نے اسے بلا کر فرمایا: ’’میرا باپ اور تیرا باپ دونوں آگ میں ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:500]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
یہ حدیث اس مسئلہ میں بالکل صریح ہے، کہ آپ ﷺ کے والد کفر کی حالت پرفوت ہوئے۔
اس کی موجودگی میں ایسی آیات اور احادیث سے استدلال کرنا جن کے معنی وتفسیرکے بارےمیں مختلف اقوال ہیں، اور سب کا احتمال موجود ہے، درست نہیں ہے، کیونکہ مسلم ضابطہ ہے "إِذَا جَاءَ الْاِحْتمَالُ بَطَلَ الْاسْتَدْلَالُ" کئی معانی کے احتمال کی صورت میں استدلال کرنا (ایک مسئلہ کےبارےمیں)
درست نہیں ہے۔
اور "أبٌ" کامعنی ’’چچا‘‘ کرنامجازی معنی ہے، اورمجازی معنی کے لیے قرینہ اوردلیل کی ضرورت ہے، جویہاں موجودنہیں ہے۔
لیکن اس مسئلہ میں زیادہ بحث وکریدمیں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اس کوخواہ مخواہ موضوع بحث نہیں بناناچاہیے۔
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے، کہ کفر اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ کسی عظیم سےعظیم ہستی کی سفارش سےبھی کافر دوزخ سےنہیں نکل سکتا۔
یہ حدیث اس مسئلہ میں بالکل صریح ہے، کہ آپ ﷺ کے والد کفر کی حالت پرفوت ہوئے۔
اس کی موجودگی میں ایسی آیات اور احادیث سے استدلال کرنا جن کے معنی وتفسیرکے بارےمیں مختلف اقوال ہیں، اور سب کا احتمال موجود ہے، درست نہیں ہے، کیونکہ مسلم ضابطہ ہے "إِذَا جَاءَ الْاِحْتمَالُ بَطَلَ الْاسْتَدْلَالُ" کئی معانی کے احتمال کی صورت میں استدلال کرنا (ایک مسئلہ کےبارےمیں)
درست نہیں ہے۔
اور "أبٌ" کامعنی ’’چچا‘‘ کرنامجازی معنی ہے، اورمجازی معنی کے لیے قرینہ اوردلیل کی ضرورت ہے، جویہاں موجودنہیں ہے۔
لیکن اس مسئلہ میں زیادہ بحث وکریدمیں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اس کوخواہ مخواہ موضوع بحث نہیں بناناچاہیے۔
اس حدیث کا اصل مقصد یہ ہے، کہ کفر اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ کسی عظیم سےعظیم ہستی کی سفارش سےبھی کافر دوزخ سےنہیں نکل سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 203 سے ماخوذ ہے۔