سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُمْ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لیے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے ، جب تک کہ وہ وضو نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے ، فرشتے کہتے ہیں : «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس پر رحم فرما “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 445 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
445. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تک تم اپنے مصلے پر رہو جہاں تم نے نماز پڑھی تھی اور ریاح بھی خارج نہ کرو تو ملائکہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فر دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:445]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس جگہ حدث سے مراد حدث اصغر (بے وضو ہونا)
ہے حدث اکبر، یعنی جنابت وغیرہ مراد نہیں, حضرت ابوہریرہ ؓ نے مذکورہ روایت میں حدث سے یہی مراد لیا ہے۔
(حدیث 176)
بعض نے کہا ہے کہ یہاں عام معنی مراد ہے، یعنی جب تک وہاں کوئی تکلیف دہ معاملہ نہ کرے۔
چنانچہ حدیث مسلم سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔
’’جب تک بے وضو نہ ہو، جب تک کسی کو تکلیف نہ دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 506 (649)
لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ریح کا خارج کرنا ہے جو دوسروں کی تکلیف کا باعث بنتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جب تک وہ حدث کے ذریعے سے کسی دوسرے کی تکلیف کا باعث نہ بنے۔
(صحیح البخاري،الصلاة، حدیث: 477)
2۔
یہ فضیلت ہر اس شخص کے لیے ہے جو نماز ادا کرکے دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہتا ہے۔
اپنے گھر نہیں جاتا، اس لیے مصلی سے مراد جائے سجود ہی نہیں بلکہ تمام مسجد ہے۔
جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ انسان اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ دوسری نماز کے انتظار میں ہے، اس لیے دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔
(فتح الباري: 1/697)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ مسجد میں ریح کا خارج کرنا تھوکنے سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ مسجد میں تھوکنے کا کفارہ بیان ہوا ہے کہ اس کو دفن کردیا جائے۔
لیکن اس کا کوئی کفارہ نہیں، بلکہ فرشتوں کی دعائے رحمت سے بھی اسے محروم کردیا جاتا ہے۔
(فتح الباري: 1/697)
لیکن یہ سنگین جرم اس صورت میں قراردیا جائے گا جب حدث سے مراد کوئی گناہ یا بدعت کا ارتکاب ہو، بصورت دیگر اسے سنگین جرم قراردینا صحیح نہیں، اگرچہ اس فعل سے فرشتوں کی دعا حاصل نہیں ہوتی۔
بہر حال مسجد میں یہ فعل خلاف اولیٰ ضرور ہے حرام یا ناجائز نہیں۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس جگہ حدث سے مراد حدث اصغر (بے وضو ہونا)
ہے حدث اکبر، یعنی جنابت وغیرہ مراد نہیں, حضرت ابوہریرہ ؓ نے مذکورہ روایت میں حدث سے یہی مراد لیا ہے۔
(حدیث 176)
بعض نے کہا ہے کہ یہاں عام معنی مراد ہے، یعنی جب تک وہاں کوئی تکلیف دہ معاملہ نہ کرے۔
چنانچہ حدیث مسلم سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔
’’جب تک بے وضو نہ ہو، جب تک کسی کو تکلیف نہ دے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 506 (649)
لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ریح کا خارج کرنا ہے جو دوسروں کی تکلیف کا باعث بنتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جب تک وہ حدث کے ذریعے سے کسی دوسرے کی تکلیف کا باعث نہ بنے۔
(صحیح البخاري،الصلاة، حدیث: 477)
2۔
یہ فضیلت ہر اس شخص کے لیے ہے جو نماز ادا کرکے دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہتا ہے۔
اپنے گھر نہیں جاتا، اس لیے مصلی سے مراد جائے سجود ہی نہیں بلکہ تمام مسجد ہے۔
جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ انسان اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ دوسری نماز کے انتظار میں ہے، اس لیے دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔
(فتح الباري: 1/697)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ مسجد میں ریح کا خارج کرنا تھوکنے سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ مسجد میں تھوکنے کا کفارہ بیان ہوا ہے کہ اس کو دفن کردیا جائے۔
لیکن اس کا کوئی کفارہ نہیں، بلکہ فرشتوں کی دعائے رحمت سے بھی اسے محروم کردیا جاتا ہے۔
(فتح الباري: 1/697)
لیکن یہ سنگین جرم اس صورت میں قراردیا جائے گا جب حدث سے مراد کوئی گناہ یا بدعت کا ارتکاب ہو، بصورت دیگر اسے سنگین جرم قراردینا صحیح نہیں، اگرچہ اس فعل سے فرشتوں کی دعا حاصل نہیں ہوتی۔
بہر حال مسجد میں یہ فعل خلاف اولیٰ ضرور ہے حرام یا ناجائز نہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 445 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3229 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3229. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص نمازکی وجہ سے کہیں ٹھہرا رہے تو سارا وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور فرشتے اسکے لیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کی مغفرت فر ما اور اس پر رحم فرما۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جب تک نماز سے فارغ نہ ہو یا بے وضو نہ ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3229]
حدیث حاشیہ: اس سے فرشتوں کا نیک دعائیں کرنا ثابت ہوا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3229 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3229 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3229. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص نمازکی وجہ سے کہیں ٹھہرا رہے تو سارا وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور فرشتے اسکے لیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کی مغفرت فر ما اور اس پر رحم فرما۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جب تک نماز سے فارغ نہ ہو یا بے وضو نہ ہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3229]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ فرشتے نیکی کے کام دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اور خوش ہوکرنیکی کرنے والے کوڈھیروں دعائیں دیتے ہیں۔
جب نیکی کا سلسلہ ختم ہوجائے تو ساتھ ہی ان کی دعاؤں کا سلسلہ بھی موقوف ہوجاتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ بھی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فرشتے ایسی مخلوق نہیں جنھیں ادراک و شعور نہ ہو بلکہ وہ صاحب شعور مخلوق ہیں۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ فرشتے نیکی کے کام دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اور خوش ہوکرنیکی کرنے والے کوڈھیروں دعائیں دیتے ہیں۔
جب نیکی کا سلسلہ ختم ہوجائے تو ساتھ ہی ان کی دعاؤں کا سلسلہ بھی موقوف ہوجاتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ بھی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فرشتے ایسی مخلوق نہیں جنھیں ادراک و شعور نہ ہو بلکہ وہ صاحب شعور مخلوق ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3229 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 734 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مسجد میں بیٹھنے اور نماز کا انتظار کرنے کی ترغیب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 734]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 734]
734۔ اردو حاشیہ: مسجد میں بیٹھنا ذکر کے لیے ہو گا یا اگلی نماز کے انتظار کے لیے، دونوں صورتوں میں وضو ہونا چاہیے۔ بے وضو مسجد میں ٹھہرنا زیادہ فضیلت کا باعث نہیں کیونکہ اس حالت میں آدمی فرشتوں کی دعا سے محروم رہتا ہے جو کہ ایک فضیلت سے محرومی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 734 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 799 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 799]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 799]
اردو حاشہ: (1)
مسجد میں جماعت کھڑی ہونے سے کافی پہلے جانا چاہیے تاکہ سنت اور نوافل وغیرہ ادا کیے جا سکیں یا ذکروتلاوت سے ثواب حاصل کیا جائے۔
(2)
فرض نماز کے انتظار میں بیٹھنے سے نماز جتنا ثواب ملتا ہے۔
اس اثناء میں کیا جانے والا ذکر اور پڑھے جانے والے نوافل مزید ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
فرض نماز ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر بیٹھ کر مسنون اوراد و وظائف میں مشغول رہنا بہت زیادہ اجر وثواب کا کام ہے۔
(4)
باوضو رہنا ثواب اور فضیلت کا باعث ہے۔
(5)
بو سے جس طرح انسان کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح فرشتے بھی اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں اس لیے بو پیدا ہونے کے بعد فرشتے نمازی کے حق میں دعا کرنا بند کردیتے ہیں۔
(6)
جب تک تکلیف نہ دے اس کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ زبان سے نا مناسب بات کہہ کر کسی نمازی کو تکلیف نہ دے۔
بے وضو ہوجانے کی بو سے بھی نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہےممکن ہے یہی مراد ہو۔
واللہ اعلم
مسجد میں جماعت کھڑی ہونے سے کافی پہلے جانا چاہیے تاکہ سنت اور نوافل وغیرہ ادا کیے جا سکیں یا ذکروتلاوت سے ثواب حاصل کیا جائے۔
(2)
فرض نماز کے انتظار میں بیٹھنے سے نماز جتنا ثواب ملتا ہے۔
اس اثناء میں کیا جانے والا ذکر اور پڑھے جانے والے نوافل مزید ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
فرض نماز ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر بیٹھ کر مسنون اوراد و وظائف میں مشغول رہنا بہت زیادہ اجر وثواب کا کام ہے۔
(4)
باوضو رہنا ثواب اور فضیلت کا باعث ہے۔
(5)
بو سے جس طرح انسان کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح فرشتے بھی اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں اس لیے بو پیدا ہونے کے بعد فرشتے نمازی کے حق میں دعا کرنا بند کردیتے ہیں۔
(6)
جب تک تکلیف نہ دے اس کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ زبان سے نا مناسب بات کہہ کر کسی نمازی کو تکلیف نہ دے۔
بے وضو ہوجانے کی بو سے بھی نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہےممکن ہے یہی مراد ہو۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 799 سے ماخوذ ہے۔