سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4682
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4682]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4682]
فوائد ومسائل:
(أخلاق‘خلق) کی جمع ہے خا اور لام كے پیش کے ساتھ۔
اور اس سے مراد انسان کی عادات اور اعمال ہیں، عمدہ عادات کو ایمان کا کمال کہا گیا ہے۔
جس شخص کی عادات اور دوسروں کے ساتھ معاملات غلط ہوں وہ اتنا ہی ایمان میں ناقص ہوتا ہے۔
(أخلاق‘خلق) کی جمع ہے خا اور لام كے پیش کے ساتھ۔
اور اس سے مراد انسان کی عادات اور اعمال ہیں، عمدہ عادات کو ایمان کا کمال کہا گیا ہے۔
جس شخص کی عادات اور دوسروں کے ساتھ معاملات غلط ہوں وہ اتنا ہی ایمان میں ناقص ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4682 سے ماخوذ ہے۔