سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ : إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: " کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: " کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
فوائد ومسائل:
حضرت یونس کا نام اس لئے لیا کہ انہی کے بارے میں وضاحت آتی ہے کہ بغیر اجازت بستی چھوڑ کے چلے گئے، اس پر وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیے گئے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بلا شبہ میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
(لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) (الأنبیا: 84) کا ورد کرتے رہے، اس کے نتیجے میں انہیں نجات مل گئی اور کسی نبی کے بارے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں، اس کے باوجود آپ ؐ نے یہ بھی گوارا نہیں فرمایا کہ ان سے آپ کا تقابل کرکے آپ فضلیت کا اظہا ر کیا جائے۔
حضرت یونس کا نام اس لئے لیا کہ انہی کے بارے میں وضاحت آتی ہے کہ بغیر اجازت بستی چھوڑ کے چلے گئے، اس پر وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیے گئے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بلا شبہ میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
(لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ) (الأنبیا: 84) کا ورد کرتے رہے، اس کے نتیجے میں انہیں نجات مل گئی اور کسی نبی کے بارے میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں، اس کے باوجود آپ ؐ نے یہ بھی گوارا نہیں فرمایا کہ ان سے آپ کا تقابل کرکے آپ فضلیت کا اظہا ر کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4670 سے ماخوذ ہے۔