سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب مَا يَدُلُّ عَلَى تَرْكِ الْكَلاَمِ فِي الْفِتْنَةِ باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4664
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ ، قَالَ : " دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ ، فَدَخَلْنَا فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ` ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا : میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے ، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے ، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے ، ہم نے ان سے پوچھا ( کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں ؟ ) تو فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے ، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا ۔