حدیث نمبر: 4663
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ " مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ ، إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ` حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو ، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ھشام بن حسان مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔`
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4663]
فوائد ومسائل:
اس کی واحد وجہ اللہ تعالی کے خاص فضل کے بعدان کا فتنوں سے الگ تھلگ رہ کر تنہائی اختیار کرلینا تھا، جیسے کہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے، لیکن اس کا یہ مفہوم بھی نہیں کہ انسان لوگوں پر موثر ہو سکتا ہو اس کی بات سنی جاتی ہو تو وہ خاموش تماشائی بنا رہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام نہ دے بلکہ یہ اس صورت میں ہے، جب آدمی کوئی اہم کردارادا کرنے کی حالت میں نہ ہو تو اس وقت الگ تھلگ رہنے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4663 سے ماخوذ ہے۔