حدیث نمبر: 4660
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : " لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا ، فَقُلْتُ : يَا عُمَرُ قُمْ فَصَلِّ بِالنَّاسِ فَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ ، فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا ، قَالَ : فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ ، فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے “ عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے ، میں نے کہا : اے عمر ! اٹھیے نماز پڑھائیے ، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا ، وہ بلند آواز شخص تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا : ” ابوبکر کہاں ہیں ؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی ، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی “ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا ، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو ( پھر سے ) نماز پڑھائی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے خلافت صدیقی کا صاف اشارہ ملتا ہے کیونکہ امامت صغریٰ امامت کبریٰ کا پیش خیمہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/322) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4661

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4661 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان۔`
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا: " نہیں، نہیں، نہیں، ابن ابی قحافہ (یعنی ابوبکر) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ غصے میں فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4661]
فوائد ومسائل:
1: رسول ؐ کی آخری بیماری کے ایام میں پہلی نماز حضرت عمر رضی اللہ نے پڑھائی، بعدازاں سیدنا ابو بکر رضی اللہ پڑھاتے رہے اور نبی ؐ کی حیات مبارکہ میں ان کی پڑھائی ہوئی نمازوں کی تعداد سترہ ہے۔

2: رسول ؐ کا حضرت ابو بکر رضی اللہ کے لئے اصرارخصوصا یہ لفظ کہ (اس سے فرماتا ہے اور مسلمان انکار کرتے ہیں ابو بکر کے علاوہ کوئی اور نمازپڑھائے) ان کی خلیفہ ہونے کا واضح اشارہ بلکہ اس بات کی شہادت تھی کہ وہ مسلمانوں کا فطری انتخاب ہیں۔

3: اس واقعہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی کوئی تنقیص نہیں ہوئی، بلکہ یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ کا وہ شرف تھا، جسے حضرت عمر رضی اللہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ اس سے پہلے تسلیم کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4661 سے ماخوذ ہے۔