حدیث نمبر: 465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ ، أَوْ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے : «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، پھر جب نکلے تو یہ کہے : «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم (713 ولم يذكر: فليسلم علي النبيﷺ)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المسافرین 10 (713)، سنن النسائی/المساجد 36 (730)، (تحفة الأشراف: 11196)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 13 (772)، مسند احمد (5/ 425) سنن الدارمی/الصلاة 115 (1434)، والاستئذان 56 (772) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 730 | صحيح مسلم: 713

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 730 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔`
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» " اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے " پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» " اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں " پڑھے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 730]
730۔ اردو حاشیہ: داخل ہوتے وقت رحمت الٰہی کا حصول مقصود ہوتا ہے اور باہر آکر طلب رزق کا کام ہوتا ہے، اس لیے دونوں دعائیں موقع محل کے مطابق ہیں۔ رحمت سے اخروی نعمتیں اور مغفرت مراد ہے۔ فضل، دنیوی نعمت اور رزق دونوں پر بولا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 730 سے ماخوذ ہے۔