حدیث نمبر: 4642
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " رَسُولُ أَحَدِكُمْ فِي حَاجَتِهِ أَكْرَمُ عَلَيْهِ أَمْ خَلِيفَتُهُ فِي أَهْلِهِ ؟ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لِلَّهِ : عَلَيَّ أَلَّا أُصَلِّيَ خَلْفَكَ صَلَاةً أَبَدًا ، وَإِنْ وَجَدْتُ قَوْمًا يُجَاهِدُونَكَ لَأُجَاهِدَنَّكَ مَعَهُمْ ، زَادَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : فَقَاتَلَ فِي الْجَمَاجِمِ حَتَّى قُتِلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا ، اس نے اپنے خطبے میں کہا : تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے ( پیغام لے جا رہا ) ہو زیادہ درجے والا ہے ، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو ؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا : اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں ، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا ۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مغيرة بن مقسم الضبي عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18632) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خلفاء کا بیان۔`
ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے (پیغام لے جا رہا) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4642]
فوائد ومسائل:
حجاج کی طرف منسوب اس کلام کا مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جس طرح کسی کا نائب اور جو اس کے اہل میں رہ کر انکی خدمت کر رہا ہو اس کے قاصد کی نسبت زیادہ افضل ہوتا ہے۔
اسی طرح انبیاء جو فقط اللہ عزوجل کے احکام پہنچانے والے تھے، نعوذ باللہ ان کی نسبت امراء بنو امیہ جو اس زمین میں اللہ کے خلیفہ ہیں بہتر ہیں اور یہ کہ خلیفہ قاصد سے افضل ہوا کرتا ہے۔
یہ کلام مفہوم اگر درست ہو تو صریح کفر ہے، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4642 سے ماخوذ ہے۔