حدیث نمبر: 4641
حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيُفَسِّرُهَا : إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة آل عمران آية 55 ، يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا : عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے ، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ” جب اللہ نے کہا کہ : اے عیسیٰ ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں ، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں ، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں “ ( سورۃ آل عمران : ۵۵ ) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ تفسیر بالرائے کی بدترین قسم ہے حجاج نے اس آیت کریمہ کو اپنے اور اپنے مخالفوں پر منطبق کر ڈالا جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، آج بھی بعض اہل بدعت آیات قرآنیہ کی من مانی تفسیر کرتے رہتے ہیں، اور اہل حق کو اہل باطل اور باطل پرستوں کو اہل حق باور کراتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خلفاء کا بیان۔`
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ” جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں “ (سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4641]
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ” جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں “ (سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4641]
فوائد ومسائل:
مفہوم کلام یہ تھا کہ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے متبعین کو اللہ تعالی نے کافروں پر غلبہ دیا اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متبعین ہیں جو شام میں پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں دوسرے جو ان کے مخالف ہیں مغلوب ہیں۔
مفہوم کلام یہ تھا کہ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے متبعین کو اللہ تعالی نے کافروں پر غلبہ دیا اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متبعین ہیں جو شام میں پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں دوسرے جو ان کے مخالف ہیں مغلوب ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4641 سے ماخوذ ہے۔