سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب فِي التَّفْضِيلِ باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟
حدیث نمبر: 4631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ السَّمَّاكُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ ، يَقُولُ : " الْخُلَفَاءُ خَمْسَةٌ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ،وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان ثوری کہا کرتے تھے` خلفاء پانچ ہیں : ابوبکر رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے؟`
سفیان ثوری کہا کرتے تھے خلفاء پانچ ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4631]
سفیان ثوری کہا کرتے تھے خلفاء پانچ ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4631]
فوائد ومسائل:
روایت اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم عمومی رائے یہی ہے کہ منہاج النبوۃ پر صحیح معنوں میں قائم خلفاء یہ پانچ تھے، دیگرخلافتوں میں کچھ نہ کچھ انحراف آگیا تھا۔
چنانچہ یہ واقعہ خلفائے اربعہ کے علاوہ عمر بن عبد العزیزؒ جو تابعی تھے، لیکن اہل سنت والجماعۃ عمومی طور پر ان کو بھی خلیفہ راشد سمجھتی تھی، کیونکہ سلیمان بن ملک کی طرف سے نامزدگی کو انہوں نے قبول نہ کیا اور لوگوں کو اپنی شوری کے ذریعے سے اپنا حکمران منتخب کرنے کا اختیار دیا۔
لوگوں نے اپنی مرضی سے انہی کو منتخب کرنے کا اختیار دیا، لوگوں نے اپنی مرضی سے انہی کو امیر المومنین منتخب کیا۔
پھر انہوں نے دیگر خلفائے راشدین کی طرح معاملات حکومت بالکل قرآن وسنت کے مطابق چلائے اس لیے وہ بھی بجا طور پر خلیفہ راشد ہیں۔
حضرت حسن بصریؒ سات مہینے تک خلیفہ رہے۔
ان کا یہ دور پہلی خلافت راشدہ کا حصہ ہے۔
روایت اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم عمومی رائے یہی ہے کہ منہاج النبوۃ پر صحیح معنوں میں قائم خلفاء یہ پانچ تھے، دیگرخلافتوں میں کچھ نہ کچھ انحراف آگیا تھا۔
چنانچہ یہ واقعہ خلفائے اربعہ کے علاوہ عمر بن عبد العزیزؒ جو تابعی تھے، لیکن اہل سنت والجماعۃ عمومی طور پر ان کو بھی خلیفہ راشد سمجھتی تھی، کیونکہ سلیمان بن ملک کی طرف سے نامزدگی کو انہوں نے قبول نہ کیا اور لوگوں کو اپنی شوری کے ذریعے سے اپنا حکمران منتخب کرنے کا اختیار دیا۔
لوگوں نے اپنی مرضی سے انہی کو منتخب کرنے کا اختیار دیا، لوگوں نے اپنی مرضی سے انہی کو امیر المومنین منتخب کیا۔
پھر انہوں نے دیگر خلفائے راشدین کی طرح معاملات حکومت بالکل قرآن وسنت کے مطابق چلائے اس لیے وہ بھی بجا طور پر خلیفہ راشد ہیں۔
حضرت حسن بصریؒ سات مہینے تک خلیفہ رہے۔
ان کا یہ دور پہلی خلافت راشدہ کا حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4631 سے ماخوذ ہے۔