حدیث نمبر: 4622
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، يَقُولُ : " كَذَبَ عَلَى الْحَسَنِ ضَرْبَانِ مِنَ النَّاسِ : قَوْمٌ الْقَدَرُ رَأْيُهُمْ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُنَفِّقُوا بِذَلِكَ رَأْيَهُمْ ، وَقَوْمٌ لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ شَنَآنٌ وَبُغْضٌ ، يَقُولُونَ : أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا ؟ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایوب کہتے ہیں` حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں : ایک تو قدریہ ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے ، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے ، وہ کہتے ہیں : کیا یہ ان کا قول نہیں ؟ کیا یہ ان کا قول نہیں ؟ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18450) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔`
ایوب کہتے ہیں حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں: ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں: کیا یہ ان کا قول نہیں؟ کیا یہ ان کا قول نہیں؟۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4622]
فوائد ومسائل:
اہل ہوا کا دستور ہے کہ وہ اپنے نظریات کو پھیلانے کے لیے ان لوگوں کی طرف اپنی غلط باتیں منسوب کرتے ہین جن کا لوگ احترام کرتے ہیں اور جن پر اعتماد کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4622 سے ماخوذ ہے۔