حدیث نمبر: 4621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَسِيرُ بِالشَّامِ فَنَادَانِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَوْنٍ مَا هَذَا الَّذِي يَذْكُرُونَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَى الْحَسَنِ كَثِيرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن عون کہتے ہیں کہ` میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں ، انہوں نے کہا : اے ابوعون ! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں ؟ میں نے کہا : لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: حسن بصری رحمہ اللہ سے متعلق خصوصا جھوٹے صوفیوں نے بہت سا کفر و شرک گھڑ رکھا ہے، اعاذنااللہ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سليم صوابه سليمان وھو أبو خالد سليمان بن حيان الأحمر مدلس (جزء القرا ء ة بتحقيقي : 267) وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18523، 18639) (صحیح الإسناد) »