حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ غَيْرِ ابْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدٍ الصِّيدِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ " وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ سورة سبأ آية 54 ، قَالَ : بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ حسن بصری آیت کریمہ : «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ” ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی “ ( سورۃ سبا : ۵۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سفيان الثوري عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18524) (ضعیف الإسناد) » (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔`
‏‏‏‏ حسن بصری آیت کریمہ: «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی (سورۃ سبا: ۵۴) کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4620]
فوائد ومسائل:
آیت کریمہ کا مفہوم واضح ہے کہ آخرت میں کفار چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول کرلیا جائےاور عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، لیکن ان کے اور ان کی اس خواہش کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے گا۔
یعنی اس خواہش کو رد کردیا جائے گا۔
(أحسن البیان)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4620 سے ماخوذ ہے۔